منگلورو:31/مئی (ایس اؤ نیوز ) ریاست بھر میں 200سے زائد ماتحت اداروں پر مشتمل ریاست کی مشہور ومعروف یونیورسٹی وشویشوریا ٹکنیکل یونیورسٹی بیلگام پر حالیہ برسوں میں غفلت ، نظر اندازی اور طلبا مخالف پالیسی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی اؤ)دکشن کنڑا ضلع شاخ کے ایک وفد نے دکشن کنڑا ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر کے جگدیش سے ملاقات کرتے ہوئے اُنہیں میمورنڈم پیش کیا۔
میمورنڈم میں ایس آئی اؤ کی طرف سے تحریر کیا گیا ہے کہ وشویشوریاٹکنکل یونیورسٹی طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ کررہی ہے جو نا قابل مذمت ہے ، خاص کر نتائج میں تاخیر اور من مانی طلبا کے لئے سردرد بن گئی ہے، گزشتہ سمسٹر کے نتائج میں تاخیر ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔ یونیورسٹی کی طرف سے جس رزلٹ کا فروری میں اعلان کرنا تھا اس کا 3ماہ بعد اعلان کیا گیاہے، اب طلبا کے لئے مشکل گھڑی یہ رہی کہ وہ امتحانات کی تیاری کریں یا نتیجہ کا انتظار کریں یا پھر غلط جانچ وغیرہ کے لئے دوبارہ اپیل کریں۔
ایس آئی او کے مطابق اس تعلق سے یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر کری سدپا نے کرایش کورس جاری کرنے سے ممتحن حضرات کی کمی ہو نے کا سبب بتایا ہے، جس کے نتیجے میں جانچ انتظامات میں تبدیلی اور جوابی پرچوں پر بار کوڈ کانظام نافذ کرنے سے نتائج کے اعلان میں کافی تاخیر ہونے کا عذر پیش کیا ہے۔ ایس آئی او کے مطابق یونیورسٹی کو چاہئے کہ وہ اپنی ٹکنیکل خامیوں کو وقت سے پہلے درست کرے اور طلبا کے مستقبل کو کھیل نہ بنائے ۔
ایس آئی اؤ نے مانگ کی ہے کہ آئندہ سمسٹر کی امتحان سے پہلے دوبارہ جانچ کی اپیل کرنے والے طلبا کے نتائج کا اعلان کریں۔ مختلف امتحانی فیسوں میں من مانی اضافہ کیا گیا ہے اس کومنصفانہ بناتےہوئے طلبا کی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے فیس میں کمی کریں۔ اسی طرح پی ایچ ڈی میں داخلہ لئے ہوئے طلبا بھی یونیورسٹی کی بدنظمی کا شکار ہوکر مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، ایس آئی اؤ نے سی بی سی ایس کی دفعات 150بی 7 کو نافذ کرنے کی مانگ کی ہے۔ وفد کی قیادت دکشن کنڑا ضلع ڈی او، طلحہ اسماعیل کررہے تھے، منگلورو شہری صدر مبین بینگرے اور ڈاکٹر مصباح بینگرے موجود تھے۔